طوطا٬ ایک دلچسپ پرندہ اور چند حیران کن حقائق
طوطا کی آواز
اﷲ عزوجل نے حیوانات ،نباتات ،جمادات، چرند پرند کو پیدافرمایا۔جس بھی مخلوق پر غور کریں تو عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے ۔
محترم قارئین!!!!!
ٹیں ٹیں ٹیں!!!یقیناً آپ یہ آوازیں اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہوں گے۔ ٹیں ٹیں کرنے والا یہ پرندہ مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ آپ اس سے خوب مزے مزے کی باتیں بھی کرتے ہوں گے اور یہ آپ کی نقل اُتارنے کی کوشش بھی کرتا ہوگا؟ کیونکہ نقل اُتارنے میں تو اسکی کوئی مثال نہیں۔
کچھ اندازہ ہوا میں کس کی بات کر رہاہوں ؟اتنا باتونی ہے اتنا باتونی کے بندہ حیران رہ جاتا ہے ۔
ہے نا حیرانی کی بات کہ باتیں تو انسان کرتے ہیں یہ کونسا پرندہ جو باتونی ہے۔ بلکہ ایک اور مزے کی بات بتاؤں اس کی سو سے زیادہ اقسام ہیں سو سے زیادہ !!
ہے نا دلچسپ بات !!میں بات کر رہا ہوں اس پرندے کی جس کے بارے میں مختلف محاورے بھی ہم اکثر اپنی گفتگو میں شامل کرتے ہیں ۔طوطہ چشم ۔۔طوطے کی طرح یادکرنا۔طوطا صفت وغیرہ !!!
اب پہچان گئے نا! جی ہاں! آج میں آپ کو اسی پرندے کے بارے میں بتاؤں گا۔ یہ وہ پرندہ ہے جو انسان کی گفتگو کو کاپی کرتا ہے ۔اور ان الفاظ کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی بولتا ہے۔ انسان کی نقالی کرتا ہے۔ مزے کی بات کہ انسان کی طرح آوازیں نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔
محترم قارئین !آج ہم آپ کو بتائیں گے اس پرندے کے بارے میں !!جسے انگریزی میں parrot کہتے ہیں اور اردو میں طوطا!! پرندوں کے گروہ میں طوطوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، طوطے طرح طرح کے خوبصورت اور دلکش رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ نقل اُتارنے میں طوطے بہت مہارت رکھتے ہیں۔ انسانوں کی طرح بولنے کے علاوہ بعض دوسری آوازیں بھی عمدگی سے نکال لیتے ہیں اور ہاں! طوطے سیٹی بھی بجا لیتے ہیں اور کچھ طوطوں کی آواز اتنی اچھی ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے سریلی آواز میں حمد و ثنا کر رہے ہیں۔
طوطے دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جنگلات میں، میدانی علاقوں میں اور پہاڑوں پر بھی طوطے پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی اقسام کے طوطے ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تر طوطے خشک علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، طوطوں کی زیادہ تر اقسام گرم آب و ہوا والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ایشیا اور یورپ کے بعض انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں،
طوطوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گرم علاقوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی جگہ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سرد مقامات پر ان کی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔
اﷲ عزوجل نے حیوانات ،نباتات ،جمادات، چرند پرند کو پیدافرمایا۔جس بھی مخلوق پر غور کریں تو عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے ۔
محترم قارئین!!!!!
ٹیں ٹیں ٹیں!!!یقیناً آپ یہ آوازیں اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہوں گے۔ ٹیں ٹیں کرنے والا یہ پرندہ مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ آپ اس سے خوب مزے مزے کی باتیں بھی کرتے ہوں گے اور یہ آپ کی نقل اُتارنے کی کوشش بھی کرتا ہوگا؟ کیونکہ نقل اُتارنے میں تو اسکی کوئی مثال نہیں۔
کچھ اندازہ ہوا میں کس کی بات کر رہاہوں ؟اتنا باتونی ہے اتنا باتونی کے بندہ حیران رہ جاتا ہے ۔
ہے نا حیرانی کی بات کہ باتیں تو انسان کرتے ہیں یہ کونسا پرندہ جو باتونی ہے۔ بلکہ ایک اور مزے کی بات بتاؤں اس کی سو سے زیادہ اقسام ہیں سو سے زیادہ !!
ہے نا دلچسپ بات !!میں بات کر رہا ہوں اس پرندے کی جس کے بارے میں مختلف محاورے بھی ہم اکثر اپنی گفتگو میں شامل کرتے ہیں ۔طوطہ چشم ۔۔طوطے کی طرح یادکرنا۔طوطا صفت وغیرہ !!!
اب پہچان گئے نا! جی ہاں! آج میں آپ کو اسی پرندے کے بارے میں بتاؤں گا۔ یہ وہ پرندہ ہے جو انسان کی گفتگو کو کاپی کرتا ہے ۔اور ان الفاظ کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی بولتا ہے۔ انسان کی نقالی کرتا ہے۔ مزے کی بات کہ انسان کی طرح آوازیں نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔
محترم قارئین !آج ہم آپ کو بتائیں گے اس پرندے کے بارے میں !!جسے انگریزی میں parrot کہتے ہیں اور اردو میں طوطا!! پرندوں کے گروہ میں طوطوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، طوطے طرح طرح کے خوبصورت اور دلکش رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔ نقل اُتارنے میں طوطے بہت مہارت رکھتے ہیں۔ انسانوں کی طرح بولنے کے علاوہ بعض دوسری آوازیں بھی عمدگی سے نکال لیتے ہیں اور ہاں! طوطے سیٹی بھی بجا لیتے ہیں اور کچھ طوطوں کی آواز اتنی اچھی ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے سریلی آواز میں حمد و ثنا کر رہے ہیں۔
طوطے دنیا بھر میں تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں، جنگلات میں، میدانی علاقوں میں اور پہاڑوں پر بھی طوطے پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی اقسام کے طوطے ہوتے ہیں جن میں سے زیادہ تر طوطے خشک علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، طوطوں کی زیادہ تر اقسام گرم آب و ہوا والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن ایشیا اور یورپ کے بعض انتہائی ٹھنڈے علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں،
طوطوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ گرم علاقوں کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی جگہ پر بھی زندہ رہ سکتے ہیں لیکن سرد مقامات پر ان کی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے۔

Comments
Post a Comment